ٹیس
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - درد، تکلیف، پیڑ، کسک، چمک۔ "کھاتے ہی آنکھوں میں ٹیس پڑ گئی" ( ١٨٩٤ء، حیات صالحہ، ٤٩ ) ٢ - شیرازہ، کتاب کی سلائی یا بخیہ، (اصطلاحات پیشہ وراں، 288:4؛ فرہنگ آصفیہ)
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ترس' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹیس' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٨ء میں سوز کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - درد، تکلیف، پیڑ، کسک، چمک۔ "کھاتے ہی آنکھوں میں ٹیس پڑ گئی" ( ١٨٩٤ء، حیات صالحہ، ٤٩ )
اصل لفظ: ترس
جنس: مؤنث