ٹیڑھ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کجی، خم، خمیدگی۔  جو ہیں ٹیڑھے کبھی ٹیڑھ ان کی نہ جاتے دیکھی چین ہوتا ہے کہاں کا کلِ پر خم سے الگ      ( ١٩١٠ء، کلام مہر، سورج ترائن، ٥٤ ) ٢ - اکڑ، اینٹھ، مروڑ، شرارت، سرکشی، انحراف۔ "جناب کو چاہیے تھا مجھے اپنی تحویل میں رکھتے میری ٹیڑھ نکال کر رکھتے"      ( ١٩٧٦ء، تین بہنیں، ١٢٩ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'تریک' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹیڑھ' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨٧٨ء میں "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اکڑ، اینٹھ، مروڑ، شرارت، سرکشی، انحراف۔ "جناب کو چاہیے تھا مجھے اپنی تحویل میں رکھتے میری ٹیڑھ نکال کر رکھتے"      ( ١٩٧٦ء، تین بہنیں، ١٢٩ )

اصل لفظ: تریک
جنس: مؤنث