ٹیڑھا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خم دار، ترچھا، جھکا ہوا۔ "اگر زمین بھرتی ہے تو ہم ٹیڑھے کیوں نہیں ہو جاتے"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مضامین، ٤٣ ) ٢ - [ مجازا ]  پھرا ہوا، برخلاف؛ سرکش، شریر۔  ہے محبت ہی کہ وحشی جس سے ہو جاتے ہیں رام جن کے آگے گردنیں ٹیڑھوں کی ہو جاتیں ہیں خم      ( ١٩٠٤ء، کلیات نظم حالی، ١٢٣:٢ ) ٣ - [ مجازا ]  مخالف۔  مقدر کی چشم عنایت ہو سیدھی ستارے کی ٹیڑھی نظر ہے تو کیا ہے      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٢٣ ) ٤ - بے ڈھب، ناہموار، دشوار۔ "کتابوں کا مسئلہ خاصا ٹیڑھا نظر آرہا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، تمدن ہند، ١٤٤ ) ٦ - [ مجازا ]  الٹا۔  سیدھی باتوں کا جو ٹیڑھا ہمیں دیتے ہو جواب کچھ زمانہ سے ہے دستور تمہارا اولٹا      ( ١٨٥٨ء، سحر (نواب علی)، بیاض سحر، ٥٠ ) ٧ - مشکل، کٹھن، سمجھ میں نہ آنے والا۔ "جیمسیز ٹیڑھے حروف میں لکھتا ہے"      ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٢٨٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'ٹیڑھ' کے ساتھ 'الف' بطور لاحقۂ صفت مذکر لگنے سے 'ٹیڑھا' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٦ء میں "ریاض البحر" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - خم دار، ترچھا، جھکا ہوا۔ "اگر زمین بھرتی ہے تو ہم ٹیڑھے کیوں نہیں ہو جاتے"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مضامین، ٤٣ ) ٤ - بے ڈھب، ناہموار، دشوار۔ "کتابوں کا مسئلہ خاصا ٹیڑھا نظر آرہا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، تمدن ہند، ١٤٤ ) ٧ - مشکل، کٹھن، سمجھ میں نہ آنے والا۔ "جیمسیز ٹیڑھے حروف میں لکھتا ہے"      ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٢٨٧ )

اصل لفظ: تریک
جنس: مذکر