ٹیکن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اڑواڑ، تھونی، ٹیک، تکیہ گاہ۔ "ٹٹیوں پر چڑھی ہوئی انگور کی بیل کی . ٹیکن اکھڑ جائے یا ٹوٹ جائے تو بیل . زمین پر لگ جاتی ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، مقدرانسانی، ٢٣٢ ) ٢ - سہارا، ٹیک۔ "اس کو ٹیکن دے کر بٹھائے اور اس کے پیٹ کو نرم نرم ملے۔"      ( ١٨٠٦ء، نورالہدایہ، ١٦٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'ٹیکنا' سے مشتق حاصل مصدر 'ٹیک' کے ساتھ 'ن' بطور لاحقۂ اسم لگنے سے 'ٹیکن' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٦ء میں "نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اڑواڑ، تھونی، ٹیک، تکیہ گاہ۔ "ٹٹیوں پر چڑھی ہوئی انگور کی بیل کی . ٹیکن اکھڑ جائے یا ٹوٹ جائے تو بیل . زمین پر لگ جاتی ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، مقدرانسانی، ٢٣٢ ) ٢ - سہارا، ٹیک۔ "اس کو ٹیکن دے کر بٹھائے اور اس کے پیٹ کو نرم نرم ملے۔"      ( ١٨٠٦ء، نورالہدایہ، ١٦٤ )

اصل لفظ: ترایا
جنس: مؤنث