پاؤں

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - انسان اور دو پایہ حیوان کے نچلے دو اعضاء میں سے ہر ایک جو زمین پر چلنے کا ذریعہ ہے، پیر، چرن، پد۔ "ہر صبح وہ ننگے پانْو - مٹرگشت کرنے لگا۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ٥٣ ) ٢ - پنڈلی، گوڑ، ران، ٹانگ۔  گلے میں طوق نہ پانوں میں بیڑیاں صفدر گیا بہار کے ہمراہ ولولہ دل کا      ( ١٨٧٨ء، کلیاتِ صفدر، ٢١ ) ٣ - [ اصطلاحا ]  جوڑ، پایہ۔ "دو چٹانوں کو برابر رکھ کر دونوں کے سروں کے پاس سوراخ کرتے ہیں اور ان میں لوہے کے پانوں لگاتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے جڑ جاوے۔"      ( ١٨٨٩ء، مقالاتِ سرسید، ٩٥:٦ ) ٤ - نقشِ قدم۔  موزوں وہ سنگ مومنوں کا بوسہ گاہ ہے جس میں بنے ہوئے ہیں رسول زمن کے پاوں      ( ١٨٦١ء، سراپا سخن، موزوں، ٣٥٣ ) ٥ - تلوا۔  پایا نہ تیرے لب کے برابر کوئی عقیق گھس گھس گئے تلاش میں اہل یمن کے پاؤں      ( ١٨٦١ء، سراپا سخن، موزوں، ٣٥٣ ) ٦ - جڑ، بنیاد (فرہنگ آصفیہ، 486:1) ٧ - دخل، مداخلت، قبضہ (نوراللغات، 23:2؛ فرہنگ آصفیہ، 486:1) ٨ - ثبات، استقلال، استحکام (فرہنگ آصفیہ، 486:1) ٩ - آخر، انجام، انتہا (فرہنگ آصفیہ، 486:1) ١٠ - چال، رفتار۔  یہ پینترے بھلے نہیں یہ چال چھوڑ دو خلقِ خدا کو روندتے ہیں بانکپن کے پاؤں      ( ١٨٧٦ء، بحر (نوراللغات، ٢٨:٢) ) ١١ - گُن۔ (نوراللغات، 28:2) ١٢ - ڈھنگ، آثار، علامات (فرہنگِ آصفیہ، 486:1) ١٣ - (میز، پلنگ وغیرہ کا) پایہ (فرہنگ آصفیہ، 486:1) ١٤ - ذمہ، ضمانت، کفالت (پلیٹس، فرہنگِ آصفیہ، 486:1) ١٥ - حصہ، بخرا، بانٹ۔ (پلیٹس؛ جامع اللغات، 23:2)

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں آیا۔ سنسکرت کے لفظ 'پادہ' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انسان اور دو پایہ حیوان کے نچلے دو اعضاء میں سے ہر ایک جو زمین پر چلنے کا ذریعہ ہے، پیر، چرن، پد۔ "ہر صبح وہ ننگے پانْو - مٹرگشت کرنے لگا۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ٥٣ ) ٣ - [ اصطلاحا ]  جوڑ، پایہ۔ "دو چٹانوں کو برابر رکھ کر دونوں کے سروں کے پاس سوراخ کرتے ہیں اور ان میں لوہے کے پانوں لگاتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے جڑ جاوے۔"      ( ١٨٨٩ء، مقالاتِ سرسید، ٩٥:٦ )

جنس: مذکر