پائدار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مستحکم، مضبوط۔ "دیکھا کہ سنگِ موسٰی کا ایک قصرِ عالی شان محکم و پائدار ہے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٨ ) ٢ - دیرپا، باقی رہنے والا، قائم و دائم۔ "ان کا کوئی پائدار اثر باقی نہیں رہتا۔"      ( ١٩١٧ء، گوکھلے کی تقریریں، ٥١ )

اشتقاق

فارسی میں اسم 'پا' کے ساتھ 'ش' برائے ترکیب لگا کر 'پائے' بنا۔ اس کے ساتھ 'داشتن' فارسی مصدر سے مشتق فعل امر 'دار' بطور لاحقہ فاعلی لگنے سے مرکب بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٠ء میں "ماسٹر رام چندر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مستحکم، مضبوط۔ "دیکھا کہ سنگِ موسٰی کا ایک قصرِ عالی شان محکم و پائدار ہے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٨ ) ٢ - دیرپا، باقی رہنے والا، قائم و دائم۔ "ان کا کوئی پائدار اثر باقی نہیں رہتا۔"      ( ١٩١٧ء، گوکھلے کی تقریریں، ٥١ )