پائنتی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (ہر قسم کی چارپائی یا قبر کی) وہ سمت یا جگہ جدھر پیر پھیلائے جائیں، سرہانے کی ضد۔ "مزارِ اقدس کی پائنتی پر بے ہوش پڑے رہے۔"      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٥٦ ) ١ - پائنتی کی جانب، پیروں کے رُخ۔ "رضائیاں - تہہ کی ہوئی پائنتی رکھی ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٨٦:٢ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (ہر قسم کی چارپائی یا قبر کی) وہ سمت یا جگہ جدھر پیر پھیلائے جائیں، سرہانے کی ضد۔ "مزارِ اقدس کی پائنتی پر بے ہوش پڑے رہے۔"      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٥٦ ) ١ - پائنتی کی جانب، پیروں کے رُخ۔ "رضائیاں - تہہ کی ہوئی پائنتی رکھی ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٨٦:٢ )

جنس: مؤنث