پارا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک سیال دھات کا نام جو سفید وزنی اور بے قرار یا متحرک ہوتی ہے تنہا آنچ پر نہیں ٹھہرتی، سیماب۔  جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٠٧ ) ٢ - [ مجازا ]  پارے کے ذریعے گرمی ماپنے کا آلہ، تھرمامیٹر، حرارت پیما، تپش پیما۔ "پارا لگا کر ان کی حرارت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٠، ١٠:١٨ ) ١ - بھاری، وزنی۔ "تمہاری مگدر کی جوڑی تو پارا ہو رہی ہے مجھ سے نہیں اٹھ سکتی۔"      ( ١٩٦٠ء، مہذب اللغات، ٤٧٤:٢ ) ٢ - بیقرار، مضطرب، ایک جگہ نہ ٹھہرنے والا۔ (نوراللغات، 6:2)

اشتقاق

اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے۔ سنسکرت میں اس کا تلفظ 'پارہ' ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اور مندرجہ تلفظ (پارا) کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٤١٩ء میں 'ادات الفضلا' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  پارے کے ذریعے گرمی ماپنے کا آلہ، تھرمامیٹر، حرارت پیما، تپش پیما۔ "پارا لگا کر ان کی حرارت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٠، ١٠:١٨ ) ١ - بھاری، وزنی۔ "تمہاری مگدر کی جوڑی تو پارا ہو رہی ہے مجھ سے نہیں اٹھ سکتی۔"      ( ١٩٦٠ء، مہذب اللغات، ٤٧٤:٢ )

اصل لفظ: پارہ
جنس: مذکر