پالسی
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - حکمت عملی، تدبیر، طرزِ عمل، نصب العین، اصول، سوچا سمجھا طریقۂ کار نظریہ۔ مجھ سے بھی آ ملا وہ عدو سے بھی جا ملا کچھ اس کی پالسی کا نہ اب تک پتا ملا ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٩ )
اشتقاق
انگریزی سے اردو میں داخل ہوا۔ اور اپنے اصل معنی میں عربی رسم الخط میں مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٨ء میں "مکتوباتِ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مؤنث