پالی

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - پرندوں (مرغ بٹیر وغیرہ) کی لڑائی کی جگہ۔ "حضور کیا عرض کروں، کل پالی نہ جانے کا افسوس رہے گا۔"      ( ١٩١٠ء، انقلابِ لکھنؤ، ١:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  مقابلہ، کشتی، مقابلے یا آمنے سامنے کی لڑائی۔  بٹیر کا پیٹ ہو جو خالی تو لڑ سکے گا وہ خاک پالی ملے اگر ہندیوں کو روٹی تو لام پر رنگروٹ جائے      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٢٥ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت کے لفظ 'پال' سے ماخوذ ہے اردو میں سب سے پہلے ١٧١٢ء میں "دیوانِ فائز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرندوں (مرغ بٹیر وغیرہ) کی لڑائی کی جگہ۔ "حضور کیا عرض کروں، کل پالی نہ جانے کا افسوس رہے گا۔"      ( ١٩١٠ء، انقلابِ لکھنؤ، ١:٢ )

جنس: مؤنث