پاموز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - وہ کتوبر یا مرغ جس کے پنجے بھی پروں سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ "گھاگھس مرغی ٹینی سے ذرا بڑی اور خوب پردار اور پاموز ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣٥ ) ٢ - وہ گھوڑا جو سواری کے وقت سوار کی پنڈلی اپنے منھہ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔

اشتقاق

فارسی ترکیب ہے۔ فارسی اسم 'پا' کے ساتھ فارسی اسم 'موزہ' میں 'ہ' حذف کرنے سے حاصل اسم 'موز' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٧٧ء کو "عجائب المخلوقات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کتوبر یا مرغ جس کے پنجے بھی پروں سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ "گھاگھس مرغی ٹینی سے ذرا بڑی اور خوب پردار اور پاموز ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣٥ )