پانسا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تانبے یا پیتل یا جست وغیرہ کا قرعہ جس کو پھینک کر رمال غیب کی بات بتاتے ہیں۔ (لغاتِ کشوری، 410) "خواجہ بسم اللہ رمال آئے، سب حال سن کر پانسا پھینکا۔"      ( ١٩٣٨ء، بیگموں کا دربار، ٣٤ ) ٢ - قرعہ؛ ازلام، وہ تیر جسے پھینک کر عرب والے ایام جاہلیت میں قرعہ انداز کرتے یا فال نکالا کرتے تھے۔ "وہ اپنا اپنا پانسہ ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی کفالت کرے گا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٤٨٠:٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں آیا۔ سنسکرت کے لفظ 'پاشکہ' سے ماخوذ ہے اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٢ء میں "دیوان محب دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تانبے یا پیتل یا جست وغیرہ کا قرعہ جس کو پھینک کر رمال غیب کی بات بتاتے ہیں۔ (لغاتِ کشوری، 410) "خواجہ بسم اللہ رمال آئے، سب حال سن کر پانسا پھینکا۔"      ( ١٩٣٨ء، بیگموں کا دربار، ٣٤ ) ٢ - قرعہ؛ ازلام، وہ تیر جسے پھینک کر عرب والے ایام جاہلیت میں قرعہ انداز کرتے یا فال نکالا کرتے تھے۔ "وہ اپنا اپنا پانسہ ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی کفالت کرے گا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٤٨٠:٣ )

جنس: مذکر