پانچ
معنی
١ - چار سے ایک زیادہ، گنتی میں چار اور ایک۔ فروغ پائیں جہاں میں نہ کیوں یہ ذیشاں پانج کہ پانچ وقت عبادت اور اس کے ارکاں پانچ ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٤:٥ ) ٢ - پانچ کا ہندسہ جو اردو میں 5 لکھا جاتا ہے۔ "٥ اور ٣ کو اس ترکیب سے ضرب دے کر ہم اس بات کی اور خوب توضیح کرتے ہیں۔" ( ١٨٧٤ء، علم حساب، ١٩ ) ٣ - نہایت چالاک، عیار، کائیاں، مکار۔ کس کو اس نے سحر میں مارا وہ جو ہے پانچ تو میں اٹھارا ( ١٨٥٨ء، بحر الفت، ٥١ ) ٤ - کئی ایک آدمی، بہت لوگ۔ موری بات سب بدھائی بنائی پرجا پانچ کت کر ہوں سہائی ( ١٦٢٣ء، تلسی داس (شبد ساگر، ٢٩٢٠:٦) ) ٥ - ذات برادری کے مکھیا لوگ، پنچ۔ سانچے پرے پانچوں پان پانچ میں پرے پرمانتلسی چاتک آس رام شیام گھن کی ( ١٦٢٣ء، تلسی داس (شبد ساگر، ٢٩٢:٦) ) ٦ - طاق، ماہر، ہوشیار بانکپن میں پانچ ہے چلتا ہے وہ پنجوں کے بل راہ میں ٹکتی نہیں اوس فتنہ گر کی ایڑیاں ( ١٨٣١ء، دیوانِ ناسخ، ١٠٩:٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت کے لفظ 'پنچ' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٠ء میں "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - پانچ کا ہندسہ جو اردو میں 5 لکھا جاتا ہے۔ "٥ اور ٣ کو اس ترکیب سے ضرب دے کر ہم اس بات کی اور خوب توضیح کرتے ہیں۔" ( ١٨٧٤ء، علم حساب، ١٩ )