پاو

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - چوتھائی، چہارم، چوتھا حصہ(مجازاً) تھوڑا سا (کل کے مقابل)۔ "محل کی عمارات دریا کے کنارے پر پاو میل تک برابر چلی گئی ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٣٣ ) ٢ - وزن میں چار چھٹانک؛ بیس تولے وزنی (شے) سیر کا چوتھائی (بیشتر عدد کے ساتھ)۔  ابھی اُترا ہو گرما گرم جو تاو پلا دے ساقیا اس میں سے ایک پاو      ( ١٨٦١ء، ایف لیلہ نو منظوم، شایان ٤٣٤:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت کے لفظ 'پاد' سے ماخوذ ہے اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چوتھائی، چہارم، چوتھا حصہ(مجازاً) تھوڑا سا (کل کے مقابل)۔ "محل کی عمارات دریا کے کنارے پر پاو میل تک برابر چلی گئی ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٣٣ )