پاٹنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - (گڑھے یا نشیب وغیرہ کو) مٹی یا کوئی چیز ڈال کر بھرنا یا ہموار کرنا۔  بھر نہیں سکتا کبھی لالچ کا پیٹ دھنستا رہتا ہے گڑھا پاٹا ہوا      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٣٠ ) ٢ - (چھت) چھانا، ڈالنا۔ "اتنی دولت دیتے کہ گھروں میں چاندی کی چھتیں پاٹتے۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٩٢ ) ٣ - (کسی چیز کی) ریل پیل کر دینا، ڈھیر لگا دینا۔  طعنوں سے کان پاٹ دوں مانوں نہ ان کی روک تھام توبہ وہ مجھ سے بول جائیں تو مرا مومنہ ہے نام      ( ١٩٢٥ء، عالم خیال، ٣٥ ) ٤ - ڈھانکنا، افراط سے کوئی چیز ڈال دینا۔  اس ڈر سے لاغری میں اٹھایا چمن سے ہاتھ پھولوں سے پاٹ دے نہ کہیں باغباں مجھے      ( ١٨٥٨ء، امانت، دیوان، ٩٢ ) ٥ - پانی دینا، سینچنا، پٹانا۔ (فرہنگ آصفیہ، 363:1)۔ ٧ - نہال کرنا، مالا مال کرنا۔ (فرہنگ آصفیہ، 363)۔  اس کے دینے کی انتہا کیا ہے جس نے تاروں کو دے کے پاٹ دیا      ( ١٩٠٥ء، داغ (نور اللغات، ٦:٢) )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'پٹ' سے ماخوذ اسم 'پاٹ' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت 'نا' بطور علامت مصدر بڑھانے سے 'پاٹنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "دیوان اسیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - (چھت) چھانا، ڈالنا۔ "اتنی دولت دیتے کہ گھروں میں چاندی کی چھتیں پاٹتے۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٩٢ )

اصل لفظ: پٹ+انن