پاپی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - گنہگار، مجرم، فاسق، بدکردار؛ برا، بد۔  مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ٣٣٦ ) ٢ - ظالم، بے رحم، کٹھور؛ منحوس۔ "انچارج برہمن بڑا پاپی، بڑا کرودھی، بڑا فطرتی اور بڑا کھاو تھا۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٤:٤ ) ٤ - [ مجازا ]  بخیل، کنجوس، خسیس۔  لو بھی پاپی پیٹ کے بندے میری نوائیں کیا سمجھیں ناظر ہے اس راگ کا رسیا اس کو گیت سناتا ہوں      ( ١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ١٩٤:٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نو سرہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ظالم، بے رحم، کٹھور؛ منحوس۔ "انچارج برہمن بڑا پاپی، بڑا کرودھی، بڑا فطرتی اور بڑا کھاو تھا۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٤:٤ )

جنس: مذکر