پاکھنڈ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دھوکا، فریب، ریاکاری۔ "اے دیوانے یہ کیا پاکھنڈ تونے بنا کر رکھا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، حکایات رومی، ١١١:١ ) ٢ - شرارت، حرمزدگی، بدذاتی، جھگڑا۔ "تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ سب پاکھنڈ شیر خان نے پھیلایا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٤٥ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'پاشنڈ' سے اردو میں ماخوذ 'پاکھنڈ' بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٨٤ء کو "تذکرۂ غوثیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھوکا، فریب، ریاکاری۔ "اے دیوانے یہ کیا پاکھنڈ تونے بنا کر رکھا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، حکایات رومی، ١١١:١ ) ٢ - شرارت، حرمزدگی، بدذاتی، جھگڑا۔ "تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ سب پاکھنڈ شیر خان نے پھیلایا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٤٥ )

اصل لفظ: پاشنڈ
جنس: مذکر