پاگل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - دیوانہ، مجنوں، سٹری، خبطی جو اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو۔ "جب آنحضرت نے بتوں کے خلاف وعظ کہنا شروع کیا تو اکثر لوگوں نے (نعوذباللہ) پاگل سمجھ لیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٣١٦:٤ ) ٢ - احمق، بے وقوف، بے عقل۔ "ارے یہ کس پاگل نے لکھی ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ١٠٣:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور اپنے اصل معنی میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٢ء میں "سخنِ بے مثال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دیوانہ، مجنوں، سٹری، خبطی جو اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو۔ "جب آنحضرت نے بتوں کے خلاف وعظ کہنا شروع کیا تو اکثر لوگوں نے (نعوذباللہ) پاگل سمجھ لیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٣١٦:٤ ) ٢ - احمق، بے وقوف، بے عقل۔ "ارے یہ کس پاگل نے لکھی ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ١٠٣:١ )