پبلک
معنی
١ - عوام الناس (خاص و عام لوگ) عوام، جمہور جس کی عزت میں جب کمی ہو پیدا پبلک میں برہمی ہو ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٢١٣ ) ١ - عوامی، قومی، عوام سے متعلق، سرکاری، اجتماعی۔ 'چوتھی صدی کے آغاز تک کسی پبلک کتب خانے کا پتہ نہیں ملتا۔" ( ١٩١٣ء، شبلی، مقالات، ١٦٦:٦ ) ٢ - کھلا ہوا، الم نشرح، واضح، ناقابلِ انکار (امر)؛ عام۔ 'جو کچھ مشاہدے میں آتا ہے وہ کہاں تک ایک پبلک حقیقت ہے۔" ( ١٩٦٣ء، تجزیۂِ نفس، ١٣٢ ) ٣ - عامتہ الناس، عوام (جمع کے صیغے میں) 'جو ہماری پولیسی اور مقاصد ہیں، ان کو پبلک اچھی طرح جانتے ہیں۔" ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٩٠ )
اشتقاق
اردو میں انگریزی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی میں عربی رسم الخط میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٩ء میں 'مسدسِ حالی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عوامی، قومی، عوام سے متعلق، سرکاری، اجتماعی۔ 'چوتھی صدی کے آغاز تک کسی پبلک کتب خانے کا پتہ نہیں ملتا۔" ( ١٩١٣ء، شبلی، مقالات، ١٦٦:٦ ) ٢ - کھلا ہوا، الم نشرح، واضح، ناقابلِ انکار (امر)؛ عام۔ 'جو کچھ مشاہدے میں آتا ہے وہ کہاں تک ایک پبلک حقیقت ہے۔" ( ١٩٦٣ء، تجزیۂِ نفس، ١٣٢ ) ٣ - عامتہ الناس، عوام (جمع کے صیغے میں) 'جو ہماری پولیسی اور مقاصد ہیں، ان کو پبلک اچھی طرح جانتے ہیں۔" ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٩٠ )