پترا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پتا، ورق۔  کھایا جس وقت وہ لیلٰی نے پترا اسی پترے نے دل لیلٰی کا پکڑا      ( ١٧٨١ء، قصہ لیلٰی و مجنوں (اردو کی قدیم منظوم داستانیں، ٩٢:١) ) ٢ - [ چھلائی ]  چھلائی کا اوزار تیز کرنے کی فولادی پٹی۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 21:3)۔ ٣ - کسی دھات کی ڈھلی ہوئی پتلی چادر کا ٹکڑا۔ "کاغذ، گتا، گوشت بعض دھاتوں کے پترے اور ورق ایسی اشیاء ہیں جس میں سے ایکس ریز آسانی سے گزر جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، جدید طبعیات، ٣٦٦ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'پترک' سے ماخوذ 'پترا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٨١ء "قصہ لیلٰی و مجنوں" میں تحریراً مستعل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - کسی دھات کی ڈھلی ہوئی پتلی چادر کا ٹکڑا۔ "کاغذ، گتا، گوشت بعض دھاتوں کے پترے اور ورق ایسی اشیاء ہیں جس میں سے ایکس ریز آسانی سے گزر جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، جدید طبعیات، ٣٦٦ )

اصل لفظ: پترک
جنس: مذکر