پتلا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آدمی یا جانور کا قالب، بُت، پیکر۔ 'ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک پُتلہ کے پیٹ میں بہت سی کتابیں بھر دی جاویں۔"      ( ١٨٨٤ء، مکمل مجموعہ لیکچرز و اسپیچز، ٣٠٣ ) ٢ - نمونہ، مثال، ماڈل۔  یہ منبع ہے ہر اقتدار و اثر کا یہ پُتلا ہے زندہ وقار بشر کا      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلامِ بے نظیر، ٢٨٧ ) ٣ - تلوار کا قبضہ، موٹھ۔ (فرہنگِ آصفیہ، 380:1)۔ ٤ - (شراب کا) وہ ظرف جو کسی آدمی یا جانور کی شکل کا ہو، بط مئے۔ 'چوبدار نے کہا کہ ایک پُتلا شراب کا واسطے نگہبانوں کے جائے گا۔"      ( ١٩٠١ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ٥٤٥:٢ ) ٥ - وجود جس میں کوئی خاصیت (بھلائی یا برائی) پائی جائے، کسی حسن یا قبح کا مجسمہ۔  میں خواب میں ہوں اور کھلی ہیں مری آنکھیں اب دل میں اتر آئے جو پتلا ہو حیا کا      ( ١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پُتّلک' سے ماخوذ 'پُتلا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء میں 'طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آدمی یا جانور کا قالب، بُت، پیکر۔ 'ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک پُتلہ کے پیٹ میں بہت سی کتابیں بھر دی جاویں۔"      ( ١٨٨٤ء، مکمل مجموعہ لیکچرز و اسپیچز، ٣٠٣ ) ٤ - (شراب کا) وہ ظرف جو کسی آدمی یا جانور کی شکل کا ہو، بط مئے۔ 'چوبدار نے کہا کہ ایک پُتلا شراب کا واسطے نگہبانوں کے جائے گا۔"      ( ١٩٠١ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ٥٤٥:٢ )

اصل لفظ: پُتّلک
جنس: مذکر