پتنگا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چنگاری، چراغ یا کوئلے وغیرہ کی آگ کا پھول، گل۔ 'ان کے برقعے پر کہیں پتنگا جا پڑا - بیویاں کہنے لگیں کہ کہیں کپڑا جل رہا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٠٨ ) ٢ - پروانہ؛ پردار کیڑا۔ "بڑے سے بڑا انسان . اس طرح بے بس ہو کر رہ جاتا تھا جیسے جالے میں پتنگا۔"      ( ١٩٤٢ء، مذاکراتِ نیاز، ٥٢ ) ٣ - گودام کا کیڑا، اناج وغیرہ میں لگ جانے والا کیڑا۔ "سونڈ والی سنڈی . دھان کا پتنگا . گھریلو چوہے۔"      ( ١٩٧٠ء، چاول، دستورِ کاشت، ١١٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پتنگ + کہ' سے ماخوذ 'پتنگا' بطور اسم اردو میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٧ء میں 'طالب و موہنی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چنگاری، چراغ یا کوئلے وغیرہ کی آگ کا پھول، گل۔ 'ان کے برقعے پر کہیں پتنگا جا پڑا - بیویاں کہنے لگیں کہ کہیں کپڑا جل رہا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٠٨ ) ٢ - پروانہ؛ پردار کیڑا۔ "بڑے سے بڑا انسان . اس طرح بے بس ہو کر رہ جاتا تھا جیسے جالے میں پتنگا۔"      ( ١٩٤٢ء، مذاکراتِ نیاز، ٥٢ ) ٣ - گودام کا کیڑا، اناج وغیرہ میں لگ جانے والا کیڑا۔ "سونڈ والی سنڈی . دھان کا پتنگا . گھریلو چوہے۔"      ( ١٩٧٠ء، چاول، دستورِ کاشت، ١١٢ )

اصل لفظ: پتنگ+کہ
جنس: مذکر