پختگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پختہ ہونے کی حالت۔ "شعروں کی عمدگی اور پختگی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عنفوانِ شباب کے بعد کا کلام ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، حیاتِ فریاد، ٢٠٨ ) ٢ - پک جانے کا عمل (پھل، کھانا وغیرہ)۔  خاکساری ہے مآل پختگی شاخ سے ٹپکا جو میوہ پک گیا    ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٤٠:٣ ) ٣ - پودے کی بڑھوار۔ "ان دو مرکزوں کے درمیان مکمل ملاپ صرف کلیمائیڈو سپوروں کی پختگی کے دوران ہی ہوسکتا ہے۔"    ( ١٩٧٠ء، فنجائی اور مشابہ پودے، ٣٥٠ )

اشتقاق

فارسی سے اصل صورت و مفہوم کے ساتھ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٠ء کو "من لگن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پختہ ہونے کی حالت۔ "شعروں کی عمدگی اور پختگی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عنفوانِ شباب کے بعد کا کلام ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، حیاتِ فریاد، ٢٠٨ ) ٣ - پودے کی بڑھوار۔ "ان دو مرکزوں کے درمیان مکمل ملاپ صرف کلیمائیڈو سپوروں کی پختگی کے دوران ہی ہوسکتا ہے۔"    ( ١٩٧٠ء، فنجائی اور مشابہ پودے، ٣٥٠ )

جنس: مؤنث