پرانا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - نیا کا نقیض، قدیم، دیرنیہ، اگلے وقتوں کا۔ "فین چوفو بہت پرانا شہر اور معقول تجارت گاہ ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین، ٥٦ ) ٢ - اگلے فیشن، وضع یا تہذیب کا (نور الغات، 72:2) ٣ - سابق کا، ماضی کا۔ "ڈاکٹر صاحب نے کلکتے والی نوکری کو توخیر باد کہا اور پھر وہی اپنے پرانے ڈھرے پر لگ گئے۔"      ( ١٩٢١ء، فغان اشرف، ١٧ ) ٤ - استعمال شدہ، بوسیدہ، فرسودہ۔  دن بہت گزرے بدلنا چاہیئے جامہ ہستی پرانا ہو گیا      ( ١٩٠٠ء، دیوان حبیب، ٢٠ ) ٥ - سن رسیدہ، زیادہ عمر کا، بوڑھا۔ "جس لال پر سرخی پر سیاہی نمود، ہو وہ لال پرانا ہے۔"      ( ١٨٨٣ء، صیدگاہ شوکتی، ٢٥٨ ) ٦ - تجربہ کار، جہاں دیدہ، کار آمودہ۔  زاہد صدسالہ آیا میکدے میں بھول کر لاشراب کہنہ ساقی اس پرانے کے لئے      ( ١٩٠٥ء، داغ، انتخاب داغ، ١٦٦ ) ٧ - عادی، جسے کسی بات کی عادت پڑ گئی ہو۔ "پھر بھی وہ پرانے گناہ گار ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٧٤ )

اشتقاق

سنسکرت میں 'پُران + کَ' سے ماخوذ 'پُرانا' اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نیا کا نقیض، قدیم، دیرنیہ، اگلے وقتوں کا۔ "فین چوفو بہت پرانا شہر اور معقول تجارت گاہ ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین، ٥٦ ) ٣ - سابق کا، ماضی کا۔ "ڈاکٹر صاحب نے کلکتے والی نوکری کو توخیر باد کہا اور پھر وہی اپنے پرانے ڈھرے پر لگ گئے۔"      ( ١٩٢١ء، فغان اشرف، ١٧ ) ٥ - سن رسیدہ، زیادہ عمر کا، بوڑھا۔ "جس لال پر سرخی پر سیاہی نمود، ہو وہ لال پرانا ہے۔"      ( ١٨٨٣ء، صیدگاہ شوکتی، ٢٥٨ ) ٧ - عادی، جسے کسی بات کی عادت پڑ گئی ہو۔ "پھر بھی وہ پرانے گناہ گار ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٧٤ )

اصل لفظ: پُران+کَ
جنس: مذکر