پرایا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بیگانہ، اجنبی، غیر۔  دیکھا جسے اپنا تھانہ تھا کوئی پرایا بے ساختہ دل درد محبت سے بھر آیا      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٥٨ ) ٢ - غیر کا، دوسرے کا۔ "ضرورت اور محتاجی کے باعث پرائے گھروں میں کونبھل اور سیدھیں دیتے ہیں۔"      ( ١٨٠١ء، باغِ اردو، افسوس، ٢١٩ )

اشتقاق

سنسکرت میں صفت 'پر + اک' سے ماخوذ، اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - غیر کا، دوسرے کا۔ "ضرورت اور محتاجی کے باعث پرائے گھروں میں کونبھل اور سیدھیں دیتے ہیں۔"      ( ١٨٠١ء، باغِ اردو، افسوس، ٢١٩ )

اصل لفظ: پر+اک
جنس: مذکر