پرخاش
معنی
١ - کینہ، عداوت؛ غبار خاطر، تکدر، غلط فہمی۔ "کسی مذہب و ملت سے انہیں خصومت یا پرخاش نہ تھی۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٤٧ ) ٢ - لڑائی جھگڑا، فساد، ہنگامہ، جنگ، دنگہ، طوفان، دباؤ اپنوں سے آتشی ہے نہ پرخاش غیر سے ہم صلح و جنگ میں نہیں رکھتے ریاسے ربط ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نطیر، ٨٧ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کینہ، عداوت؛ غبار خاطر، تکدر، غلط فہمی۔ "کسی مذہب و ملت سے انہیں خصومت یا پرخاش نہ تھی۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٤٧ )