پرداز
معنی
١ - تمہید، اٹھان، ابتدا۔ ہوشیار اے شوق غافل ہوشیار چشم الفت جور کا پرواز ہے ( ١٩٣٦ء، معارف جمیل، ١٣٨ ) ٢ - رنگ، ڈھنگ، طور طریقہ، انداز۔ "ان کے گھر کی پرداز اختیار کرنے سے ہمارے گھر کا کیا فائدہ ہوگا۔" ( ١٩١٧ء، مراری دادا، ٢٥ ) ٣ - آراستگی، جلا، تصویر کے خدوخال۔ سو حسن کی تصویریں لکھیں کلک قضا نے چہرہ نہ کوئی پر ترے پرداز کا پایا ( ١٨٢٤ء، مصحفی (نور اللغات، ٧٧:٢) ) ٤ - تصویر کا چوکٹھا، باریک کام جو کسی تصویر یا نقش کے گرد کیا کرتے ہیں، نقش و نگار۔ "جلی آئینے قدم قدم ایسے لگے اور ان کے پردازوں میں ہیرے اور موتی جڑے ہوئے تھے۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٨٨ ) ٥ - مرکبات میں جزو دوم کے طور پر مستعمل، بمعنی کرنے والا، ڈھانپنے والا۔ بنا کر پھر اے چہرے پرداز عالم مرا نقشِ ہستی مٹانے سے حاصل ( ١٩٠٠ء، نظم دل افروز، ١٩٥ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم نیز لاحقہ فاعل کے استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - رنگ، ڈھنگ، طور طریقہ، انداز۔ "ان کے گھر کی پرداز اختیار کرنے سے ہمارے گھر کا کیا فائدہ ہوگا۔" ( ١٩١٧ء، مراری دادا، ٢٥ ) ٤ - تصویر کا چوکٹھا، باریک کام جو کسی تصویر یا نقش کے گرد کیا کرتے ہیں، نقش و نگار۔ "جلی آئینے قدم قدم ایسے لگے اور ان کے پردازوں میں ہیرے اور موتی جڑے ہوئے تھے۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٨٨ )