پرزہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کاغذ وغیرہ کا حصہ یا ٹکڑا۔ "ہم تو اپنے بچپن میں دیکھتے تھے کہ لکھے ہوئے کاغذ کا پرزہ زمین میں پڑا ہوتا تو اٹھا کر چوما۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٧:٣ ) ٢ - کسی گل یا مشین کا کوئی حصہ۔ "اسی بھاپ کی طاقت سے اس مشین کا ہر پرزہ چلتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٤٠٦:٤ ) ٣ - 'دھجی' چیتھٹرا، کترن (کپڑے وغیرہ کی)۔  میں بھی گلچین کی طرح پھول چنا کرتا ہوں کب گربیاں کے پرزے مرے داماں میں نہیں      ( ١٩١٥ء، جان سخن، ٨٥ ) ٤ - مختصر خط، رقعہ۔ "ناصر کی ہزاروں منتیں کیں کہ ذرا ساپرزہ ممانی کو لکھ کر ڈال دے، ایک نہ سنی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشاء، ٢٥ ) ٥ - [ مجازا ]  چالاک، ہشیار، شرارتی (چلتا، کےساتھ)۔ "میں جانتا ہوں وہ بڑا چلتا پرزہ ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٨١:٢ ) ٦ - رونگٹا (پرندوں کے لئے مستعمل)۔  نہ پر تھا نہ پرزا نہ بازو نہ پا کنھوں نے بھی پوچھا نہ یوں تھا یہ کیا      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٠٨٤ ) ٧ - شیاف، دوات کا صوف۔ (نوراللغات، 81:2) ٨ - رواں جو ریشمی کپڑے اور پشمینہ کے بہت زیادہ استعمال کے بعد ابھر آتا ہے، (ماخوذ:نوراللغات، 81:2)۔ ٩ - ٹکڑا، حصہ۔ ٹیسٹ ٹیوب۔ "اتار بنانے سے پہلے آہن کا امحتان ایک دو پرزوں میں بھر کر کرلیں۔"      ( ١٩٠٣ء، آتشبازی، ٢٤ ) ١٠ - [ مجازا ]  نسخئہ طبیب۔ "نسخہ تیار ہو گیا کاغذی پرزاتھا دوا فروش نے پڑھ کر دوشیشیاں دے دیں۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارئہ دل، ٨٠:١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ " میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کاغذ وغیرہ کا حصہ یا ٹکڑا۔ "ہم تو اپنے بچپن میں دیکھتے تھے کہ لکھے ہوئے کاغذ کا پرزہ زمین میں پڑا ہوتا تو اٹھا کر چوما۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٧:٣ ) ٢ - کسی گل یا مشین کا کوئی حصہ۔ "اسی بھاپ کی طاقت سے اس مشین کا ہر پرزہ چلتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٤٠٦:٤ ) ٤ - مختصر خط، رقعہ۔ "ناصر کی ہزاروں منتیں کیں کہ ذرا ساپرزہ ممانی کو لکھ کر ڈال دے، ایک نہ سنی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشاء، ٢٥ ) ٥ - [ مجازا ]  چالاک، ہشیار، شرارتی (چلتا، کےساتھ)۔ "میں جانتا ہوں وہ بڑا چلتا پرزہ ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٨١:٢ ) ٩ - ٹکڑا، حصہ۔ ٹیسٹ ٹیوب۔ "اتار بنانے سے پہلے آہن کا امحتان ایک دو پرزوں میں بھر کر کرلیں۔"      ( ١٩٠٣ء، آتشبازی، ٢٤ ) ١٠ - [ مجازا ]  نسخئہ طبیب۔ "نسخہ تیار ہو گیا کاغذی پرزاتھا دوا فروش نے پڑھ کر دوشیشیاں دے دیں۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارئہ دل، ٨٠:١ )

جنس: مذکر