پرسش

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - پوچھنا، دریافت، استفسار۔ "مسجد جامع کے باب میں کچھ پرسشیں لاہور سے آئی تھیں، یہاں سے ان کے جواب مل گئے ہیں۔"      ( ١٨٦٢ء، خطوط غالب، ٤٣٧ ) ٢ - مواخذہ  گلشن کا ذرہ ذرہ پیے بے دھڑک شراب اور ہم خیال پرسش روز جزا کریں      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢١٤ ) ٣ - خبر گیری، توجہ۔  کلثوم اڑا دے گی کھڑی ہوکے بہت خاک پرسش پرسش نہ کرے گا کوئی اس خاک ملی کی      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٦٨٩ ) ٤ - بیمار کی مزاج پرسی، عیادت۔ "میرافلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی پرسش نہ کی۔"      ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٥، ٤٨٥ ) ٥ - قدرو منزلت، عزت۔ "جب سے نقلی رنگ اہل مغرب نے ایجاد کر لیے ہیں ہندوستانی رنگوں کی کوئی قدر یا پرسش باقی نہیں رہی۔"      ( ١٩٤٠ء، معدنی رباغت، ١٠٨ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر 'پُرسیدن' سے حاصل مصدر 'پُرسش' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پوچھنا، دریافت، استفسار۔ "مسجد جامع کے باب میں کچھ پرسشیں لاہور سے آئی تھیں، یہاں سے ان کے جواب مل گئے ہیں۔"      ( ١٨٦٢ء، خطوط غالب، ٤٣٧ ) ٤ - بیمار کی مزاج پرسی، عیادت۔ "میرافلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی پرسش نہ کی۔"      ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٥، ٤٨٥ ) ٥ - قدرو منزلت، عزت۔ "جب سے نقلی رنگ اہل مغرب نے ایجاد کر لیے ہیں ہندوستانی رنگوں کی کوئی قدر یا پرسش باقی نہیں رہی۔"      ( ١٩٤٠ء، معدنی رباغت، ١٠٨ )

اصل لفظ: پُرسیدن
جنس: مؤنث