پرسوں

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - گذشتہ کل سے پہلے کا دن، گزرا ہوا تیسرا دن۔ "میں پرسوں دیکھ کر آیا کہ سب چیزیں تمہاری مرضی کے موافق مکمل ہو گئیں۔"      ( ١٩٢٥ء، مینا بازار، شرر، ٤٣ ) ٢ - آئندہ کل کے بعد کا دن، ایک دن درمیان میں چھوڑ کر اگلا دن۔ "بیوی "پرسوں اللہ رکھے برات چڑھے گی۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٤٦ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٩٧ء کو "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گذشتہ کل سے پہلے کا دن، گزرا ہوا تیسرا دن۔ "میں پرسوں دیکھ کر آیا کہ سب چیزیں تمہاری مرضی کے موافق مکمل ہو گئیں۔"      ( ١٩٢٥ء، مینا بازار، شرر، ٤٣ ) ٢ - آئندہ کل کے بعد کا دن، ایک دن درمیان میں چھوڑ کر اگلا دن۔ "بیوی "پرسوں اللہ رکھے برات چڑھے گی۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٤٦ )

اصل لفظ: پرسوں
جنس: مذکر