پروا

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - اندیشہ، خوف، ڈر، خطرہ۔  اس شور میں بشاش کھڑے تھے وہ دلاور پروا نہ تھی مطلق کہ یہ فوج آتی کسی پر      ( ١٨٧٤ء، انیس، فراثی، ١٠٩:١ ) ٢ - خواہش، رغبت؛ حاجت، ضرورت، احتیاج۔ "نام و نمود کی پروا آپ کو ہو تو ہو، میری طرف سے تو اطمینان رکھیئے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٣٢ ) ٣ - کسی بات کا لحاظ، خیال، دھیان۔ "وائے بیدردی کسی کو پروا بھی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز ) ٤ - تردد، فکر، غم۔  گر دل دیا ہے اس کو تو اے مصحفی دیا میں وہ نہیں کہ عشق میں پروائے دل کروں      ( ١٨٢٤ء، مصحفی، انتخاب رام پور، ١٤٦ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - خواہش، رغبت؛ حاجت، ضرورت، احتیاج۔ "نام و نمود کی پروا آپ کو ہو تو ہو، میری طرف سے تو اطمینان رکھیئے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٣٢ ) ٣ - کسی بات کا لحاظ، خیال، دھیان۔ "وائے بیدردی کسی کو پروا بھی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز )

جنس: مؤنث