پروردگار

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - پالنے والا، رب، اللہ، خدا۔  مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل آشفتہ دل، فریفتہ دل، بیقرار دل      ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ١٢١ ) ٢ - [ مجازا ]  موجد، بانی۔ 'بیدل نئی ترکیبوں اور نئے اسالیب کا پروردگار ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، پردیسی کے خطوط، ١٤٢ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر'پروردن' سے مشتق صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'پرورد' کے ساتھ لاحقہ صفت 'گار' ملنے سے 'پروردگار' بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو 'کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  موجد، بانی۔ 'بیدل نئی ترکیبوں اور نئے اسالیب کا پروردگار ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، پردیسی کے خطوط، ١٤٢ )

اصل لفظ: پروردن
جنس: مذکر