پروردہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پلا ہوا، پالا ہوا۔  خدا کی ذات ہے وہ ذوالجلال والاکرام کہ جس سے ہوتے ہیں پروردہ سب خواص و عوام    ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٣:٢ ) ٢ - (مجازاً) ملازم، غلام، خصوصاً وہ لاوارث یا زرخرید لڑکا یا لڑکی جس کو گھر کے کام کاج اور ذاتی خدمت کے لیے پرورش کیا ہوا اور گھریلو خادموں میں شمار ہو، اصیل، بالکڑا، لے پالک۔ 'شبراتی ابا صاحب کا پروردہ ہے، ہم کیسے اس کو چور بناتے۔"    ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ٣٣٩:٢ ) ٣ - دبایا ہوا۔ (نوراللغات، 85:2) ٤ - رچا، بسا، ماحول یا معاشرہ کا تربیت یافتہ، موسم کا اثرزدہ۔ 'انگلستان کی - سوسائٹی کی پروردہ اونچی سے اونچی منی اسکرٹ پہننے والی ایلن ایک مشرقی لڑکی کی طرح گھبرا رہی تھی۔"      ( ١٩٧٩ء، کوہ دماوند، ٣٨ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر 'پروردن' سے مشتق صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'پرورد' کے ساتھ لاحقہ حالیہ تمام 'ہ' ملنے سے 'پروردہ' بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو 'کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - (مجازاً) ملازم، غلام، خصوصاً وہ لاوارث یا زرخرید لڑکا یا لڑکی جس کو گھر کے کام کاج اور ذاتی خدمت کے لیے پرورش کیا ہوا اور گھریلو خادموں میں شمار ہو، اصیل، بالکڑا، لے پالک۔ 'شبراتی ابا صاحب کا پروردہ ہے، ہم کیسے اس کو چور بناتے۔"    ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ٣٣٩:٢ ) ٤ - رچا، بسا، ماحول یا معاشرہ کا تربیت یافتہ، موسم کا اثرزدہ۔ 'انگلستان کی - سوسائٹی کی پروردہ اونچی سے اونچی منی اسکرٹ پہننے والی ایلن ایک مشرقی لڑکی کی طرح گھبرا رہی تھی۔"      ( ١٩٧٩ء، کوہ دماوند، ٣٨ )

اصل لفظ: پروردن