پرورش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پالنے یا پالے جانے کی کیفیت، وہ عمل جس سے کوئی چیز نشوونما پائے، پال پوس۔ 'بکریوں کی پرورش پر ان کا گزارہ تھا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٧٠٦:٣ ) ٢ - تعلیم و تربیت، دیکھ بھال۔ 'ضمیر شاہدہ کی پرورش میں دن رات منہمک تھا۔"      ( ١٩١٩ء، جوہرِ قدامت، ٢١ ) ٣ - [ مجازا ]  مہربانی، عطا، عنایت، شفقت۔ 'ہمارے لیے تو آپ ہی بادشاہ ہیں، کچھ پرورش ہو جائے۔"      ( ١٩٤٣ء، دلّی کی چند عجیب ہستیاں، ١٧ ) ٤ - (بات کی) پچ، پاس، حمایت۔  ہے پرورش سخن کی مجھے اپنی جاں تلک جوں شمع زندگانی ہے میری زباں تلک      ( ١٨٧٠ء، سودا، کلیات، ٢٤٧:١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'پروردن' سے حاصل مصدر 'پرورش' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٨٢ء کو 'کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پالنے یا پالے جانے کی کیفیت، وہ عمل جس سے کوئی چیز نشوونما پائے، پال پوس۔ 'بکریوں کی پرورش پر ان کا گزارہ تھا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٧٠٦:٣ ) ٢ - تعلیم و تربیت، دیکھ بھال۔ 'ضمیر شاہدہ کی پرورش میں دن رات منہمک تھا۔"      ( ١٩١٩ء، جوہرِ قدامت، ٢١ ) ٣ - [ مجازا ]  مہربانی، عطا، عنایت، شفقت۔ 'ہمارے لیے تو آپ ہی بادشاہ ہیں، کچھ پرورش ہو جائے۔"      ( ١٩٤٣ء، دلّی کی چند عجیب ہستیاں، ١٧ )

اصل لفظ: پروردن
جنس: مؤنث