پروین

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ چھ ستاروں کا گُچّھا جو جاڑوں میں سب سے اول نظر آتا ہے، سات سہلیوں کا جُھمکا، ثّریا۔  نہ پروین نہ کوئی نشان پرن کراں تا کراں لہلہاتا ہے گھن      ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٢٢٥ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٢ء، کو "مہتابِ داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر