پرچھائیں
معنی
١ - (کسی چیز کا) عکس، سایہ، چھاوں۔ "دور سے آدمی کی پرچھائیں دیکھ کر اس نے آواز دی اور معلوم کیا کہ ام المومنین عائشہ ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٣:٢ ) ٢ - اثر، عادات و فضائل کا پرتو، مثل۔ "باوجود ملا یہ نہ طلب علم کے ملائیت کی پرچھائیں بھی ان پر نہیں پڑی تھی۔" ( ١٩٤٠ء، کاروان خیال، ٩٣ ) ٣ - [ مجازا ] بے حقیقت بات، تصور یا تخیل جس کا حقیقت میں وجود نہ ہو۔ ظلمت ابہام میں پرچھائیں تفصیلات کی پیچ وخم کھاتے بگولے میں چمک ذرات کی ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٥٧ )
اشتقاق
ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٢، کو "گنج خوبی"میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (کسی چیز کا) عکس، سایہ، چھاوں۔ "دور سے آدمی کی پرچھائیں دیکھ کر اس نے آواز دی اور معلوم کیا کہ ام المومنین عائشہ ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٣:٢ ) ٢ - اثر، عادات و فضائل کا پرتو، مثل۔ "باوجود ملا یہ نہ طلب علم کے ملائیت کی پرچھائیں بھی ان پر نہیں پڑی تھی۔" ( ١٩٤٠ء، کاروان خیال، ٩٣ )