پرکالہ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - ٹکڑا، حصہ، لخت، پارہ کوہ سہر مکھ ہو تو اک وار میں دو پرکالے ہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا ( ١٩٠٥ء حدائق بخشش، ٦:١ ) ٢ - چنگاری، شرارہ شب تاریک میں صد مایہ تابش بن کر محوپرواز ہے پرکالہ آتش بن کر ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٣ ) ٣ - شیشے کی 'ٹکڑی' شیشے کے وہ ٹکڑے جو کھڑکیوں میں لگائے جاتے ہیں، شیشہ آئینہ۔ (پلیٹس؛فرہنگ آصفیہ، 517:1)
اشتقاق
فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر