پرکھ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کھرے کھوٹے کی پہچان، برے بھلے کی تمیز، شناخت، جانچ۔ "اچھے کبوتروں کی عام پرکھ یہ ہے کہ ان کے بازو کے بڑے پروں کی تعداد بارہ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣٤ ) ٢ - معیار؛ آزمائش؛ تجربہ، جانچ، معائنہ۔ "گورنمنٹ نے اس کسوٹی اور پرکھ کو ناجائز قرار دے کر اس کی ممانعت کر دی۔"      ( ١٨٨٨ء، رسالہ حسن، حیدر آباد، اگست، ٤٨ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'پریکشا' سے ماخوذ 'پرکھ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٢ء کو "طلسم ہوش ربا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھرے کھوٹے کی پہچان، برے بھلے کی تمیز، شناخت، جانچ۔ "اچھے کبوتروں کی عام پرکھ یہ ہے کہ ان کے بازو کے بڑے پروں کی تعداد بارہ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، پرندوں کی تجارت، ٣٤ ) ٢ - معیار؛ آزمائش؛ تجربہ، جانچ، معائنہ۔ "گورنمنٹ نے اس کسوٹی اور پرکھ کو ناجائز قرار دے کر اس کی ممانعت کر دی۔"      ( ١٨٨٨ء، رسالہ حسن، حیدر آباد، اگست، ٤٨ )

اصل لفظ: پریکشا
جنس: مؤنث