پریشان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پراگندہ، منتشر، بکھرا ہوا، تِتربِتر جیسے کتاب کے اوراق، سر کے بال اور اسی طرح کی دوسری چیزیں۔ 'داڑھی پریشاں، لباس میں کوئی سلیقہ نہیں نہ میلا نہ اُجلا۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٩٧ ) ٢ - بٹا ہوا، ضائع، برباد۔ 'جتنا زر سپاہ میں پریشان کیا اتنا ہی اپنی پریشانی کا سامان کیا۔"    ( ١٨٩٧ء، تاریخِ ہندوستان، ١٦:٨ ) ٣ - حیران، سرگردان، مضطر۔  دل آشفتہ ذکر زلف سے کیا کیا الجھتا ہے سنا جاتا نہیں قصہ پریشاں سے پریشاں کا    ( ١٨٧٨ء، گلزارِ داغ، ١٦ ) ٤ - دق، عاجز۔  بلبلیں کیا ساتھ دے سکتی ہیں نالوں کا مرے زاغ میرا ہمنوا ہو کر پریشان ہو گیا    ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٤ ) ٥ - فکرمند، متردد (پلیٹس؛ فرہنگ آصفیہ، 520:1)

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو 'قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پراگندہ، منتشر، بکھرا ہوا، تِتربِتر جیسے کتاب کے اوراق، سر کے بال اور اسی طرح کی دوسری چیزیں۔ 'داڑھی پریشاں، لباس میں کوئی سلیقہ نہیں نہ میلا نہ اُجلا۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٩٧ ) ٢ - بٹا ہوا، ضائع، برباد۔ 'جتنا زر سپاہ میں پریشان کیا اتنا ہی اپنی پریشانی کا سامان کیا۔"    ( ١٨٩٧ء، تاریخِ ہندوستان، ١٦:٨ )