پرے

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - فاصلے پر، دور۔ "خرابی یہ تھی کہ استانی جی چار گھر پَرے تھیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٠٥ ) ٢ - ایک طرف کو، الگ، علیحدہ۔  جا پرے ہٹ، نکل، سرک، چَل دور ہے سبق اس شَریر چنچل کا      ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ٣٧ ) ٣ - زیادہ بلند یا پست، آگے۔  اس کا درجہ خوک سے جانو پَرے جلد آفات و بلا سے وہ مَرے      ( ١٨٤٧ء، حارق الاشرار،١١ ) ٤ - اُس طرف، اُس پار، ادھر، ورے کی ضد۔ "نظامِ شمسی جیسے دوسرے نظام بھی ہیں اور اس سے پَرے اور نظام ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، مقدماتِ عبدالحق، ١٠١:١ ) ٥ - [ فقرے کے طور پر ]  دور ہو، ہَٹ جاؤ۔  کہتا ہے کس کو ناز سے تو دمبدم پَرے تُو دو قدم کہے میں رہوں سو قدم پَرے      ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٢٣١ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٤ء، کو " سحرالبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فاصلے پر، دور۔ "خرابی یہ تھی کہ استانی جی چار گھر پَرے تھیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٠٥ ) ٤ - اُس طرف، اُس پار، ادھر، ورے کی ضد۔ "نظامِ شمسی جیسے دوسرے نظام بھی ہیں اور اس سے پَرے اور نظام ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، مقدماتِ عبدالحق، ١٠١:١ )

اصل لفظ: پرے