پسند

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - رغبت خاطر، کسی بات یا چیز کی اچھائی اور خوبی محسوس کرنے کا ذوق۔  سچ کہہ بلند کس کی ہے اے خو بروپسند تجکو عدو پسند ہے مجکو ہے تو پسند      ( ١٩٠٠ء، امیر مینائی، صنم خانۂِ عشق، ٧٣ ) ٢ - [ مجازا ]  ترجیح، انتخاب (اچھا لگنے کی بنا پر) ١ - جس کی طرف رغبت ہو، مرغوب، خواہش کے مطابق، جو دل یا نگاہ کو اچھا یا بھلا لگے، مَن بھاتا، منظورِ نظر، حسنِ ظاہر یا باطن کی بناء پر قابلِ ترجیح۔  کسب حیاتِ نو تری ہر ہر ادا سے ہے مرنا پسند خاطر اربابِ جاں نہیں      ( ١٩٢٥ء، نشاطِ روح، ١٢٠ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'پسندیدن' سے حاصل مصدر 'پسند' اردو میں بطور صفت او اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء، کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: پسندیدن
جنس: مؤنث