پسیجنا
معنی
١ - رطوبت یا نمی سے بھیگا بھیگا ہو جانا، پسیولانا، پسینہ آنا۔ 'بارش کی کثرت سے پکی چھتیں بھی پسیج رہی تھیں۔" ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ١١ ) ٢ - (جسم کا) پسینہ لانا، عرق میں تر ہو جانا، عرق عرق ہونا، پسینہ ٹپکنا۔ 'بدن تانبا تھا کسی طرح نہ پسیجا۔" ( ١٩٢٩ء، وداع خاتون، ٩ ) ٣ - نرم پڑنا، پگھلنا، اثر لینا، متاثر ہونا۔ 'لاکھ منت سماجت کی پر وہ شقی القلب کسی طرح نہ پسیجا۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٦٦ ) ٤ - [ مجازا ] مہربان ہونا، رحم یا ترس کھانا۔ 'بھاوج کی مصیبت پر تمہارا دل نہ پسیجا۔" ( ١٩٢٠ء، بنت الوقت، ١٥ ) ٥ - راغب یا مائل ہونا۔ 'الٰہی یہ کیسے دل ہیں کہ یہ سب کچھ سن کر بھی اسلام پر نہیں پسیجتے۔" ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ٢٨ ) ٦ - ڈھیلا پڑنا، اڑ یا ضد سے ہٹنا، آمادہ ہو جانا۔ ان کے دروازے کی زنجیر لگی ہو نہ کہیں کچھ پسیجا تو ہے دربان بڑی مشکل سے ( ١٩٠٥ء، داغ، یادگارِ داغ، ٨٥ ) ٧ - [ مجازا ] کنجوس یا مالدار کا کچھ دینا۔ 'یہی مغز سے کوئی بات اتاریں تو ہماری قوم کے امیر پسیجیں۔" ( ١٨٩١ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٥٢:١ ) ٨ - (جسم میں حرارت پیدا ہونے سے) کلبلانا، حرکت میں آنا، جھود یا سکون دور ہونا۔ فقط عزم صادق کے ہیں یہ نتیجے کہ اختر مسلمان ریجھے پسیجے ( ١٨٩٤ء، مجموعہ نظم بے نظیر، ٦٩ ) ١٠ - کچاٹانکا دینا۔ '(پینل) کے بیرنگ (Bearing) یعنی سہاروں کو خرادنے کی غرض سے پسیجا جاتا ہے یعنی یہ کہ کچا ٹانکا دیا جاتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، انجینئری کارخانے کے چالیس عملی سبق، ٧٥ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'پر + سود' سے ماخوذ 'پسیج' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامتِ مصدر 'نا' لگنے سے 'پسیجنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧٣٧ء کو 'طالب و موہنی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رطوبت یا نمی سے بھیگا بھیگا ہو جانا، پسیولانا، پسینہ آنا۔ 'بارش کی کثرت سے پکی چھتیں بھی پسیج رہی تھیں۔" ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ١١ ) ٢ - (جسم کا) پسینہ لانا، عرق میں تر ہو جانا، عرق عرق ہونا، پسینہ ٹپکنا۔ 'بدن تانبا تھا کسی طرح نہ پسیجا۔" ( ١٩٢٩ء، وداع خاتون، ٩ ) ٣ - نرم پڑنا، پگھلنا، اثر لینا، متاثر ہونا۔ 'لاکھ منت سماجت کی پر وہ شقی القلب کسی طرح نہ پسیجا۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٦٦ ) ٤ - [ مجازا ] مہربان ہونا، رحم یا ترس کھانا۔ 'بھاوج کی مصیبت پر تمہارا دل نہ پسیجا۔" ( ١٩٢٠ء، بنت الوقت، ١٥ ) ٥ - راغب یا مائل ہونا۔ 'الٰہی یہ کیسے دل ہیں کہ یہ سب کچھ سن کر بھی اسلام پر نہیں پسیجتے۔" ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ٢٨ ) ٧ - [ مجازا ] کنجوس یا مالدار کا کچھ دینا۔ 'یہی مغز سے کوئی بات اتاریں تو ہماری قوم کے امیر پسیجیں۔" ( ١٨٩١ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٥٢:١ ) ١٠ - کچاٹانکا دینا۔ '(پینل) کے بیرنگ (Bearing) یعنی سہاروں کو خرادنے کی غرض سے پسیجا جاتا ہے یعنی یہ کہ کچا ٹانکا دیا جاتا ہے۔" ( ١٩٤٨ء، انجینئری کارخانے کے چالیس عملی سبق، ٧٥ )