پسینا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ نمی یا رطوبت جو بدن کے مسامات سے نکلتی ہے (عموماً گرمی، گھمس، محنت، شرم، ندامت، انفعال یا خوف کی وجہ سے)۔ 'حمام ایسا تعمیر کرائیں جس میں پسینہ نہ آئے کیونکہ وہ بدن میں تری و سردی پیدا کرتا ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٣٥٥:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'پرسونن + کہ' سے ماخوذ 'پسینا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو 'مراثی انیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ نمی یا رطوبت جو بدن کے مسامات سے نکلتی ہے (عموماً گرمی، گھمس، محنت، شرم، ندامت، انفعال یا خوف کی وجہ سے)۔ 'حمام ایسا تعمیر کرائیں جس میں پسینہ نہ آئے کیونکہ وہ بدن میں تری و سردی پیدا کرتا ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٣٥٥:٢ )

اصل لفظ: پرسِونن+کہ
جنس: مذکر