پشتو

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - پٹھانوں کی زبان جو عموماً پاکستان کے سرحدی علاقے اور اس کے بالائی حصے نیز بلوچستان کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔  شیخ بولے کہ میاں یہ تو بتاؤ ہم سے قوم کو اس دیس میں پشتو کی ضرورت کیا تھی      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢، ١٤٩:٣ ) ٢ - [ موسیقی، طبلہ ]  امیر خسرو کی ایجاد کردہ ایک تال کا نام اس تال میں نقش و گل اور رباعی وغیرہ گاتے ہیں اس کا ٹھیکہ چھ حرف کا ہے دھن، دھگ، تہ، نا، نہ، کے (ماخوذ : معدن الموسیقی، 194) 'نمبر١٥ غزل، دھن بھیرویں تال پشتو۔"      ( ١٩٠٨ء، عشق فیروزلقا، ٢٧ ) ٣ - ایک قسم کا رقص جو پشتو تال پر ناچا جاتا ہے۔  جھولے تھا فرحت کا ہنڈولہ ہنڈول پشتو ناچے تھا کمانچہ بال کھول      ( ١٨٣٧ء، مثنوی بہاریہ، ١٠ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٧ء کو 'مثنوی بہاریہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ موسیقی، طبلہ ]  امیر خسرو کی ایجاد کردہ ایک تال کا نام اس تال میں نقش و گل اور رباعی وغیرہ گاتے ہیں اس کا ٹھیکہ چھ حرف کا ہے دھن، دھگ، تہ، نا، نہ، کے (ماخوذ : معدن الموسیقی، 194) 'نمبر١٥ غزل، دھن بھیرویں تال پشتو۔"      ( ١٩٠٨ء، عشق فیروزلقا، ٢٧ )

اصل لفظ: پشتو
جنس: مؤنث