پشواز
معنی
١ - انگرکھے کی وضع کا گھیردار دامن کا لباس جس کا گھیر لہنگے کی طرح کا ہوتا ہے پرانے زمانے میں امرا و بیگمات لباس کے اوپر بطور برقع پہنا کرتے تھے اور 'جامہ' کے نام سے موسوم تھا۔ اب گانے والی عورتیں گانے ناچنے کے لیے پرتکلف جامہ پہنتی ہیں۔ (ماخوذ : اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 129:2) 'پشواز یا رنگا قبا کی ایک مختلف طرز تھی۔" ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدِ وسطی کی ایک جھلک، ٤١٩ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٧ء کو 'دیوانِ ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - انگرکھے کی وضع کا گھیردار دامن کا لباس جس کا گھیر لہنگے کی طرح کا ہوتا ہے پرانے زمانے میں امرا و بیگمات لباس کے اوپر بطور برقع پہنا کرتے تھے اور 'جامہ' کے نام سے موسوم تھا۔ اب گانے والی عورتیں گانے ناچنے کے لیے پرتکلف جامہ پہنتی ہیں۔ (ماخوذ : اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 129:2) 'پشواز یا رنگا قبا کی ایک مختلف طرز تھی۔" ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدِ وسطی کی ایک جھلک، ٤١٩ )