پلا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کتے کا بچہ، بھیڑیے وغیرہ کا بچہ۔ 'کتے کے بچے گلی میں پڑے ٹھٹھرتے تھے۔"      ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥٧ ) ٢ - [ تحقیرا ]  انسان، انسان کا بچہ۔ 'اے ہے کیا آدمی کا پِلا ایسا ہی ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، زلفی، ١١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پِلّہ' سے ماخوذ 'پِلا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠١ء کو 'دیوانِ جوشش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کتے کا بچہ، بھیڑیے وغیرہ کا بچہ۔ 'کتے کے بچے گلی میں پڑے ٹھٹھرتے تھے۔"      ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥٧ ) ٢ - [ تحقیرا ]  انسان، انسان کا بچہ۔ 'اے ہے کیا آدمی کا پِلا ایسا ہی ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، زلفی، ١١ )

اصل لفظ: پِلّہ
جنس: مذکر