پلنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - پرورش یا نشوونما پانا، پالا پوسا جانا۔  پَل رہے ہیں ضمیر میں طوفاں درد مندوں کی خاموشی پہ نہ جاؤ      ( ١٩٥٨ء، تار پیراہن، ٣٢ ) ٢ - (پھل کا ) رکھے رکھے نرم یا پلپلا ہو کر مزے سے اتر جانا۔  نہ رہی اب ثمرِ عشق میں وہ کیفیت بے مزہ ہوتا ہے وہ میوہ جو پَل جاتا ہے      ( ١٩٠٥ء، داغ، یاد گارِ داغ، ٧٧ ) ٣ - مادی فیض پانا، مستفید ہونا۔  سدا برت بھی ان کا رہتا تھا جاری کہ پلتے تھے جِس سے ہزاروں بھکاری      ( ١٩٠١ء، مظہرالمعرفت، ٢٩ ) ٤ - بڑھنا؛ پُسنا کے ساتھ بطور مقدم۔ "اگرچہ دیہات میں پلی پسی تھی، مگر چالاکی شوخی شرارت رگ رگ میں بھری تھی۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ١٤٥ ) ٥ - پرنا، پرویا جانا، چھبنا، گڑنا (شاذ)  اظفری مضموں کسی شاعر کا رات دل میں کانٹا سا مِرے پلتا رہا      ( ١٨١٨ء، اظفری (دیوانِ جہاں، ٣٨) ) ٦ - موٹا تازہ ہونا۔ "یہ بکرا خوب پَلا ہوا ہے۔"      ( شبد ساگر، ٢٨٨٩:٦ ) ٧ - گرمی پا کر نرم ہو جانا۔ (نوراللغات، 111:2)

اشتقاق

ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٨ء کو دیوانِ اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - بڑھنا؛ پُسنا کے ساتھ بطور مقدم۔ "اگرچہ دیہات میں پلی پسی تھی، مگر چالاکی شوخی شرارت رگ رگ میں بھری تھی۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ١٤٥ ) ٦ - موٹا تازہ ہونا۔ "یہ بکرا خوب پَلا ہوا ہے۔"      ( شبد ساگر، ٢٨٨٩:٦ )

اصل لفظ: پلنا