پلندا

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - مٹھا، گڈی، کاغذ وغیرہ کا لپٹا ہوا یا فائل میں رکھا پیکٹ۔ "آج بھی حسبِ معمول موسیو مارگے، کاغذات کا پلندا بغل میں دبائے کچہری کو گیا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، ١٣، ٣٩:٥ ) ٢ - بنڈل (خطوط یا کتابوں کا)۔ "بہت سی کتابوں کا ایک پلندا تھا۔"      ( ١٩٣٤ء، سرگزشتِ عروس، ٢٣ ) ٣ - بغیر دُھلے میلے کپڑوں کا گٹھڑ یا گٹھڑی۔ "دھوبی میلے کپڑوں کا پلندا سنبھالے گھاٹ کو جارہے ہیں وہی پرانا کارخانہ جاری ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، زندگی، جون، ١٦ ) ٤ - (ظہارِ کثرت کے لئے) ڈھیریا بہت سی بے ترتیب اشیاء وغیرہ۔ "قطعات کو یونہی پلندہ کر کے یا شیشے کے فریم میں بھیجا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، مکتوباتِ شاد، ١٧٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پول + وت' سے ماخوذ 'پُلَندا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٩ء کو "خطوطِ سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹھا، گڈی، کاغذ وغیرہ کا لپٹا ہوا یا فائل میں رکھا پیکٹ۔ "آج بھی حسبِ معمول موسیو مارگے، کاغذات کا پلندا بغل میں دبائے کچہری کو گیا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، ١٣، ٣٩:٥ ) ٢ - بنڈل (خطوط یا کتابوں کا)۔ "بہت سی کتابوں کا ایک پلندا تھا۔"      ( ١٩٣٤ء، سرگزشتِ عروس، ٢٣ ) ٣ - بغیر دُھلے میلے کپڑوں کا گٹھڑ یا گٹھڑی۔ "دھوبی میلے کپڑوں کا پلندا سنبھالے گھاٹ کو جارہے ہیں وہی پرانا کارخانہ جاری ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، زندگی، جون، ١٦ ) ٤ - (ظہارِ کثرت کے لئے) ڈھیریا بہت سی بے ترتیب اشیاء وغیرہ۔ "قطعات کو یونہی پلندہ کر کے یا شیشے کے فریم میں بھیجا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، مکتوباتِ شاد، ١٧٢ )

اصل لفظ: پول+وت
جنس: مذکر