پلپلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جوبالائی سطح کے اندر سے بہت نرم یا ملائم ہو، لجلجا؛ گھلا ہوا۔ "ورم ڈھیلا اور پلپلا ہوتا ہے، رنگ سفید ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، شرحِ اسباب (ترجمہ)، ٢٤٠:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  ڈرپوک، کم ہمت، ڈھیلے ڈھالے جسم والا (شخص) "پستول ایک خطرناک چیز ہے مگر جب یقین ہو جائے کہ یہ کسی پلپلے آدمی کے ہاتھ میں ہے تو اس کا ڈر ور کچھ نہیں رہتا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٤٦:٦ )

اشتقاق

فارسی میں اسم 'پِلْپِل' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت لاحقۂ صفت 'ا' لگنے سے 'پلپلا' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سےپہلے ١٨٨٠ء کو "فسانہ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جوبالائی سطح کے اندر سے بہت نرم یا ملائم ہو، لجلجا؛ گھلا ہوا۔ "ورم ڈھیلا اور پلپلا ہوتا ہے، رنگ سفید ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، شرحِ اسباب (ترجمہ)، ٢٤٠:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  ڈرپوک، کم ہمت، ڈھیلے ڈھالے جسم والا (شخص) "پستول ایک خطرناک چیز ہے مگر جب یقین ہو جائے کہ یہ کسی پلپلے آدمی کے ہاتھ میں ہے تو اس کا ڈر ور کچھ نہیں رہتا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٤٦:٦ )

اصل لفظ: پِلپِل
جنس: مذکر