پلیگ

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - طاعون، وہ متعدی کا مہلک وبا جس میں چڈھے بغل یا کسی اور جوڑ کے مقام پر گلٹی نکلتی ہے اس مرض کے زہریلے جراثیم اکثر چوہوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ "افسوس ہے کہ لاہور میں . اب تک پلیگ کا خاتمہ نہیں ہوا۔"      ( ١٩٠٤ء، متکوباتِ حالی، ٧١:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  دَق کرنے والا یاپریشان کُن (انسان؛ چیز یا کوئی معاملہ)، خوفناک۔ "مرہٹے بنگالیوں کو پلیگ سمجھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٤ء، مضامینِ چکبست، ٢٣١ )

اشتقاق

انگریزی سے اردو میں ماخوذ ہے اور اپنے اصل معنی میں عربی رسم الخط میں مستعمل ہے سب سے پہلے ١٩٠٤ء کو "مکتوباتِ حالی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طاعون، وہ متعدی کا مہلک وبا جس میں چڈھے بغل یا کسی اور جوڑ کے مقام پر گلٹی نکلتی ہے اس مرض کے زہریلے جراثیم اکثر چوہوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ "افسوس ہے کہ لاہور میں . اب تک پلیگ کا خاتمہ نہیں ہوا۔"      ( ١٩٠٤ء، متکوباتِ حالی، ٧١:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  دَق کرنے والا یاپریشان کُن (انسان؛ چیز یا کوئی معاملہ)، خوفناک۔ "مرہٹے بنگالیوں کو پلیگ سمجھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٤ء، مضامینِ چکبست، ٢٣١ )

اصل لفظ: Plague